Pak Dunya ! A Resource that you can Trust!
If this is your first visit, be sure to check out the FAQ by clicking the link above. You may have to register before you can post: click the register link above to proceed. To start viewing messages, select the forum that you want to visit from the selection below.

Not a Member ? Join Us

Pak Dunya ! A Resource that you can Trust!

Pak Dunya Urdu Forum
 
HomePortalFAQSearchUsergroupsRegisterLog inGallery

Iphone 6 Pluse Screen Replacement  Jobs  Health Send Free MOBILE SMS


Share | 
 

 "بدگمانی"

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
smaaaq
Moderators
avatar

Gender : Male Posts : 234
Points : 773
Reputation : 30
Join date : 2010-03-05
Location : Lahore Pakistan

PostSubject: "بدگمانی"   Mon Apr 05, 2010 10:15 am

"بدگمانی"


سرکار دو عالم صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “جس نے مجھہ پر ایک بار درود پاک بھیجا الله عزوجل اس پر ١٠ رحمتیں نازل فرماتا ہے اور جو مجھہ پر ١٠ بار درود پاک بھیجے الله عزوجل اس پر ١٠٠ رحمتیں نازل فرماتا ہے اور جو مجھہ پر ١٠٠ بار درود پاک بیھجے الله عزوجل اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھہ دیتا ہے کہ یہ بندہ نفاق اور دوزخ کی آگ سے بری ہے اور قیامت کے دن اس کو شہیدوں کے ساتھہ رکھے گا“ (القول البدیع ص ٢٣٣ موستہ الربان بیروت
)

صلواعلی الحبیب! صلی الله تعالی علی محمد


گمان کسے کہتے ہیں؟ ہر وہ خیال جو کسی ظاہری نشانی سے حاصل ہوتا ہے گمان کہلاتا ہے۔ مثلا دور سے دھواں اٹھتا دیکھہ کر آگ کی موجودگی کا خیال آنا۔ (مفردات امام راغب ،ص ٥٣٩، ماخوذا)
کثرت گمان کی ممانعت: الله عزوجل نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:
یعنی: “اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئ گمان گناہ ہو جاتا ہے۔“

گمان کی قسمیں: گمان (ظن) کی دو اقسام ہیں
١- حسن ظن ( یعنی اچھا گمان رکھنا) : حسن ظن کی دو اقسام ہیں۔ حسن ظن کبھی تو واجب ہوتا ہے جیسے الله عزوجل کے ساتھہ اچھا گمان رکھنا اور کبھی مستحب جیسے مومن صالح کے ساتھہ نیک گمان۔
٢- سوئے ظن (یعنی برا گمان یا بدگوئ) (خزائن العرفان، پ ٢٦، الحجرات، تحت الآیتہ ١٢) سوئے ظن کی دو اقسام ہیں۔
* جائز: جائز کی دو صورتیں ہیں۔
پہلی صورت: فاسق معلن کے ساتھہ ایسا گمان کرنا جیسے افعال اس سے ظہور میں آتے ہیں۔ (خزائن العرفان، پ ٢٦ ، الحجرت، تحت الآیتہ ١٢)۔ علامہ محمد بن احمد انصاری قرطبی علیہ رحمتہ الله القوی ( المتوفی ٥٦٧١) لکھتے ہیں: اگر کوئ شخص نیک ہو تو اس کے متعلق بدگمانی جائز نہیں اور اعلانیہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا اور فسق میں مشہور ہو تو اس کے بارے میں بدگمانی کرنا جائز ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن، پ ٢٦، الحجرت تحت الآیتہ ١٢، ج ٨، ص ٢٣٨)

دوسری صورت: جب نقصان میں مبتلاء ہونے کا قوی احتمال ہو۔ اس بدگمانی کی بنیاد پر احتیاطی تدابیر اختیار کریں جس سے سامنے والے کو کوئ نقصان نہ پہنچے تو جائز ہے۔ علامہ اسماعیل حقی علیہ رحمتہ الله القوی ( المتوفی ١١٣٧ ھ) تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں: بعض گمان مباح ہیں جیسے امور معاش یعنی دنیاوی معاملات اور معاش کے مہمات میں بدگمانی کرنا بلکہ ان امور میں بدگمانی وجب سلامتی ہے۔
(روح البیان، پ ٢٦، الحجرات تحت الآیتہ ١٢، ج ٩، ص ٨٤)

* ممنوع: جیسے الله تعالی کے ساتھہ براگمان رکھنا (الله عزوجل مجھے رزق نہیں دے گا یا میری حفاظت نہیں فرمائے گا یا میری مدد نہیں فرمائے گا وغیرہ وغیرہ) اور نیک مومن کے ساتھہ برا گمان رکھنا۔ ( تفسیر خزائن العرفان، پ ٢٦، الحجرات ، تحت الآیتہ ١٢، فتح الباری، کتاب البرو الصلتہ، ج ١٥، ص ٢١٩)
حضرت محمد صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عبرت نشان ہے کہ : “ بدگمانی سے بچو بے شک بدگمانی بدترین جھوٹ ہے“ ( صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب مایخطب علی خطبہ اخیہ، الحدیث ٥١٤٣، ج ٣، ص ٤٤٦)

بدگمانی پر شرعی حکم کب لگے گا؟ کسی شخص کے دل میں کسی کے بارے میں برا گمان آتے ہی اسے فعل حرام کا مرتکب قرار نہیں دیا جائے گا۔ بدگمانی کے حرام ہونے کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت: جب انسان اس بدگمانی کو دل پر جمالے (یعنی اس کا یقین کرلے) ۔حجتہ الاسلام امام محمد غزالی علیہ رحمتہ الله الوالی ( المتوفی ٥٠٥ ھ) فرماتے ہیں: “ ( مسلمان سے ) بدگمانی بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح زبان سے برائ کرنا حرام ہے۔ لیکن بدگمانی سے مراد یہ ہے کہ دل میں کسی کے بارے میں برا یقین کرلیا جائے۔ رہے دل میں پیدا ہونے والے خدشات و وسوسے تو وہ معاف ہیں بلکہ شک بھی معاف ہے“ مزید لکھتے ہیں: “ بدگمانی کے پختہ ہونے کی پہچان یہ ہے کہ مظنون کے بارے میں تمھاری قلبی کیفیت تبدیل ہوجاے، تمھیں اس سے نفرت محسوس ہونے لگے، تم اس کو بوجھہ سمجھو، اسکی عزت و اکرام اور اس کیلئے فکر مند ہونے کے بارے میں سستی کرنے لگو“ نبی اکرم صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :“

جب تم کوئ بدگمانی کرو تو اس پر جمے نہ رہو“ (المعجم الکبیر، الحدیث ٣٢٢٧، ج ٣، ص ٢٢٨)

دوسری صورت: بدگمانی کو زبان پر لے آنا یا اس کے تقاضے پر عمل کرلینا۔ علامہ عبد الغنی نابلسی علیہ الله القوی ( المتوفی ١١٤٣ ھ) لکھتے ہیں: “ شک یا وہم کی بناء پر مومنین سے بدگمانی اس صورت میں حرام ہے جب اس کا اثر اعضاء پر ظاہر ہو یعنی اس کے تقاضے پر عمل کرلیا جائے مثلا اس بدگمانی کو زبان سے نیان کردیا جائے“ ( الحدیقتہ الندیتہ، ج ٢، ص ١٣)
بدگمانی میں ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔اس ایک گناہ کی وجہ سے کئ گناہ سرزد ہوجاتے ہیں۔ مثلا
١- اظہار کردینے سے کسی مسلمان بھائ کی دل آزاری کا اندیشہ ہوتا ہے اور مسلمان بھائ کی دل آزاری حرام ہے۔
٢- غیر موجودگی میں اظہار کیا تو غیبت ہو جائے گی۔
٣- بدگمانی کے نتیجے میں تجسس پیدا ہوتا ہے اور تجسس حرام ہے۔ الله تعالی ارشاد فرماتا ہے:“ اور عیب نہ ڈھونڈو“ ( پ ٢٦، الحجرت ١٢)
٤- سوئے ظن سے بغض اور حسد جیسے باطنی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ (فتح الباری، الحدیث ٦٠٦٦،ج ١٠، ص ٤١٠)

بدگمانی کے چند علاج:
پہلا علاج: اپنے مسلمان بھائ کیلئے حسن ظن رکھیے اس سے قلب کا سکون نصیب ہوتا ہے۔
دوسرا علاج: عربی مقولہ ہے یعنی :“جب کسی کے کام برے ہوجائیں تو اس کے گمان بھی برے ہوجاتے ہیں“
(فیض القدیر، ج ٣، ص ١٥٧) لہذا اپنی اصلاح کیجیے۔
تیسرا علاج: بری صحبت سے بچتے ہوئے نیک صحبت اختیار کیجیے۔ روح المعانی میں ہے:“بروں کی صحبت اچھوں سے بدگمانی پیدا کرتی ہے“ (روح المعانی ، پ ١٦، مریم: تحت الآیتہ ٩٨، ج ١٦، ص ٦١٢)
چوتھا علاج: جب بھی بدگمانی پیدا ہو تو فورا اپنی توجہ بدگمانی کے شرعی احکام پر ڈالیے اور بدگمانی کے انجام پر نگاہ رکھتے ہوئے خود کو عذاب الہی سے ڈرائیے۔
پانچواں علاج: دعا کریے کہ اس گناہ سے خدا ہر مسلمان بھائ کو بچائے۔
چھٹا علاج: برے گمان کو ہمیشہ جھٹکتے رہیں اور حسن ظن قائم کریں۔ الله عزوجل کا فرمان عالیشان ہے: “اچھا گمان اچھی عبادت سے ہے“ (سنن ابی داؤد، کتاب الاب، ج ٤، ص ٣٨٧، الحدیث ٤٩٩٣)
ساتواں علاج: اپنے کام سے کام رکھنے کی عادت بنائیے اور دوسروں کے معاملات کی ٹوہ میں نہ رہیے۔
آٹھواں علاج: حضور صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “بے شک ظن غلط بھی ہوسکتا ہے اور صحیح بھی“ (الدر امنثور، ج ٧، الجرت تحت الآیتہ ١٢، ص ٥٦٥)۔ اس لیے جب بھی بدگمانی آئے تو سوچیے کہ یہ اس کا اور الله عزوجل کا معاملہ ہے۔

نواں علاج: اپنے قلب کو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کیجیے اس کیلئےموت کی یاد اور آخرت کی فکر کرنا بے حد مفید ہے۔ اعلی حضرت، پروانہ شمع رسالت، الشاہ مولانا احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن ( المتوفی ١٣٤٠ ھ) فتاوی رضویہ جلد ٢٠ صفحہ ٢٣١ پر حضرت سیدنا عارف یالله زروق رحمتہ الله تعالی علیہ کا قول نقل فرماتے ہیں: “ خبیث گمان خبیث دل سے نکلتا ہے“ (الحدیقتہ الندیتہ، الخلق الرابع و العشرون، ج ٢، ص ٨)
دسواں علاج: حجتہ الاسلام امام محمد غزالی علیہ رحمتہ الله الوالی ( المتوفی ٥٠٥ ھ) ارشاد فرماتے ہیں:
“ جب تمھارے دل میں کسی مسلمان کے بارے میں بدگمانی آئے تو تمھیں چاہیے اس کی رعایت میں اضافہ کردو اور اس کے لیے دعائے خیر کرو، کیونکہ یہ چیز شیطان کو غصہ دلاتی ہے اور اسے تم سے دور بھگاتی ہے۔ شیطان دوبارہ تمھارے دل میں برا گمان نہیں ڈالے گا کہ کہیں تم پھر سے اپنے بھائ کی رعایت اور اس کے لیے دعائے خیر میں مشغول نہ ہوجاؤ“ (احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللسان، ج ٣، ص ١٨٧)
گیارھواں علاج: دل کے محاسبے میں کبھی غفلت نہ کیجیے، ورنہ شیطان مسلسل کوشش کے ذریعے بالآخر بدگمانی میں مبتلا کروا سکتا ہے۔



صلواعلی الحبیب! صلی الله تعالی علی محمد

توبو الی الله! استغفرالله

صلواعلی الحبیب! صلی الله تعالی علی محمد
Back to top Go down
http://barelvirishtay.com
 
"بدگمانی"
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1
 Similar topics
-
» "We all recover at different rates" true or false?
» Asaid Reveals "Important Meeting to be Held Wed" --to End Dictatorship
» manifested... someone dies "at the end of the week"
» INDIA: "Is This Real Or A Fake" Jesus appears On Host
» Rob Skiba "Angels, Demons, UFO's, and More"

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
Pak Dunya ! A Resource that you can Trust! :: Islamic Section :: Hadees o Sunnat-
Jump to: